15 جنوری 2016 - 19:48
روزنامہ نیویارک ٹائمز میں چھپا ایرانی وزیر خارجہ کا اہم مراسلہ

سعودیوں کی اس وقت گھناونی کوشش یہ ہے کہ جوہری سمجھوتے کو اس کے مدار سے خارج کیا جائے اور علاقے میں موجود کشمکش اور کھینچا تانی میں شدت پیدا کی جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا سعودی عرب کی انتہا پسندی کے حوالے سے [Saudi Arabia’s Reckless Extremism ] کے عنوان کے تحت ایک مراسلہ امریکی کثیرالانتشار روزنامہ نیویارک ٹائمز میں 10 جنوری 2016 کو شائع ہوا ہے جو حسب ذیل ہے:

دنیا عنقریب ہی ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں پیدا کیے گئے ایک غیر ضروری مگر خطر ناک بحران کے بارے میں سمجھوتے کا جشن منائے گی ،ہم سب کو امید تھی اور پہلے کی  طرح یقین بھی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا حل یہ امکان فراہم کرے گا کہ شدت پسندی کی جس مشکل نے پورے علاقے  اور دنیا کو نابودی کے بھنور میں ڈال دیا ہے اس پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کی جائے ۔

پریزیڈینٹ روحانی صاحب نے کئی بار اعلان کیا ہے کہ ایران کی خارجی سیاست کی اصلی ترجیح پڑوسیوں کے ساتھ دوستی، علاقے میں صلح اور امن اور شدت پسندی کے ساتھ جنگ میں عالمی پیمانے پر تعاون کرنا ہے ،ماہ مہر ۱۳۹۲ میں نئی حکومت کے بر سر کار آنے کے ایک ماہ بعد انہوں نے دنیا کے سامنے خشونت اور انتہا پسندی  سے پاک دنیا کی تجویز رکھی ،اور اس تجویز کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا اور اس سے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جنگ کی امید پیدا ہوئی ۔

بد قسمتی سے بعض ملکوں کی کوشش ہے کہ اس تعمیری تعاون کی راہ میں روڑے اٹکائیں ۔ ماہ آذر ۱۳۹۲ میں عارضی جوہری سمجھوتے پر دستخط کے فورا بعد سعودی عرب کہ جو ایران سے خوف زدہ کرنے کی دیوار کے گر جانے سے وحشت زدہ تھا اس سمجھوتے کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے اس نے اپنے تمام وسایل کو جھونک دیا ۔ آج کچھ ایسے گواہ موجود ہیں کہ ریاض میں کچھ لوگ حالات کے معمول پر آنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تگ و دو میں ہیں بلکہ ان کا مصمم ارادہ ہے کہ پورے علاقے کو کشمکش میں متلا کر دیں ۔

سعودی عرب پریشان ہے کہ جوہری پروگرام کے بہانے کے پردے کے ہٹ جانے سے اس کے واقعی چہرے یعنی اس ملک کی انتہا پسندی کی حمایت کے ڈھول کا پول کھل جائے گا ۔ وحشت اور بربریت پر مبنی کارنامے آشکارا ہیں ۔گھر کے اندر حکومتی جلاد تلوار سے گردن اڑاتے ہیں حالیہ ۴۷ افراد کو ایک دن میں موت کےگھاٹ اتارنے کی مانند کہ جن میں ایک ہر دل عزیز مذہبی عالم بھی موجود تھا کہ جس نے اپنی پوری زندگی پرامن طور پر شہری حقوق کے دفاع کی ترویج میں گذار دی ۔ ملک کے باہر بھی نقاب پوش افراد سروں کو چاقو کے ذریعے  تن سے جدا کرتے ہیں ۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ دہشت گردی کے اقدامات کرنے والے اکثر افراد ۱۱ ستمبر کے دہشتناک واقعے سے لے کر سین برنادینو کی گولہ باری تک اور اس میدان کے دیگر وحشتناک مناظر ،اور القاعدہ اور النصرہ جیسے تمام دہشت گرد گروہ  یا سعودی عرب کے رہنے والے ہیں یا عوام کو دھوکہ دینے والوں کے ذریعے تیل کے ڈالروں کی حمایت کے ساتھ دسیوں سال سے اسلام کے خلاف نفرت اور فرقہ پسندی کے پیغام کی ترویج کر رہے ہیں ،ان کا برین واش کیا گیا ہے ۔

 سعودیوں کی اس وقت ناپاک کوشش یہ ہے کہ جوہری سمجھوتے کو اس کے مدار سے خارج کیا جائے اور علاقے میں موجود کشمکش اور کھینچا تانی کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس میں اور شدت پیدا کی جائے جس کے لیے اس پاس تین ہتھکنڈے ہیں ؛ مغرب پر دباو ، یمن میں جنگ کو جاری رکھتے ہوئے علاقے کی بے ثباتی کو جاری رکھنا اور انتہا پسندی کی حمایت کرنا اور ایران کو براہ است للکارنا ، یمن میں میں ریاض کا فوجی تجاوز اور انتہا پسندی کی حمایت ایسے امور ہیں جو واضح اور آشکار ہیں ۔ لیکن ایران کے خلاف بھڑکانے والے اقدامات کبھی بھی بین الاقوامی سرخیوں میں تبدیل نہیں ہوئے اس لیے کہ ہمارے صبر آمیز تحمل نے ان کو بحران میں تبدیل ہونے سے روکا ہے ۔

ایران کی حکومت نے ۱۲ دی کو سعودی سفارتخانے اور کونسلگری پر ہونے والے حملے کی سختی کے ساتھ مذمت کی تھی اور سعودی سفارتکاروں کو ضمانت دی تھی ، ہم نے سعودی  سفارتی ڈیپلومیٹس  کی  ایران واپسی کے فوری اقدامات کر دیے تھے اور ہم تمام حملہ آوروں کو سزا دینے پر مصمم ہیں  ہم نے وہی قانونی کاروائی ان لوگوں کے سلسلے میں بھی کی ہے جنہوں نے ان مقامات کی حفاظت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی کی ہے  ،اور ہم نے آئیندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ایک داخلی تجسس اور تفحص کرنے کے لیے کمیٹی مقرر کر دی ہے ۔

اس کے مقابلے میں سعودی عربیہ  اور اس کے مزدوروں  نے  گذشتہ تین سال میں یمن ،لبنان اور پاکستان  میں ایرانی سیاسی مقامات کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے  کہ جن میں مقامی اور ایرانے افراد مارے گئے ہیں ۔ایسے ہی بھڑکانے والے کچھ اور اقدامات کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ایرانی حاجیوں کو منصوبہ بند طریقے سے ستایا گیا ہے ۔ ایک بار سعودی عرب کے دو پولیس والوں نے جدہ میں دو ایرانی جوانوں کے ساتھ بد تمیزی کی جس سے عام لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی ۔اسی طرح سعودیوں کی مجرمانہ غفلت کی بنا پر منی کا حادثہ پیش آیا جس میں ۴۶۴ ایرانی حاجی بے بسی کے عالم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اس کے علاوہ سعودی حکام نے کئی دن تک حادثے کا شکار ہوئے حاجیوں کی لاشوں کو وطن لے جانے کے سلسلے میں ایرانی حکام اور حاجیوں کے رشتہ داروں کی درخواست پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں درباری خطیب نہ صرف ایران کے خلاف بلکہ تمام شیعوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔ شیخ نمر کو قتل کرنے کا قابل نفرت اقدام مسجد الحرام میں شیعوں کے خلاف  ایک خطیب کی نفرت انگیز تقریر کے فورا بعد کیا گیا کہ جس نے ۹۴ کے اوائل میں دوسرے خطبے میں کہا تھا ؛ شیعوں کے ساتھ ہماری مخالفت شیعوں کے ساتھ اور ان کے خلاف ہماری خود کش کاروائیاں جب تک وہ روئی زمین پر ہیں جاری رہیں گی ۔

ان تمام مسائل کے باوجود ایران نے اپنی طاقت پر اطمئنان کے باوجود سعودی عرب کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کی اور اس ملک سے روابط بھی منقطع نہیں کیے ۔ہمارا جواب اب تک خود کو کنٹرول کرنے کی حد تک رہا ہے لیکن یکطرفہ صبر و تحمل زیادہ دن تک باقی نہیں رہتا ۔

ایران خطے میں تناو میں اضافہ کرنے پر مایل نہیں ہے ۔ہمیں انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے ،صدر محترم اور میں ،ان کے منتخب ہونے کے ابتدائی دنوں سے ہی عمومی اور خصوصی دونوں سطح پر گفتگو کے لیے اور رعلاقے میں امن بحال کرنے کے لیے اور بے ثباتی پیدا کرنے والی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کر چکے ہیں لیکن سعودی عرب میں اس بات کو سننے والے کان ہی نہیں ہیں ۔

سعودی حکام کو دو میں سے ایک چیز کو چننا چاہیے یا تو وہ  فرقہ وارانہ نفرت کو بڑھاوا دینےکے لیے انتہا پسندوں کی حمایت کو جاری رکھے یا علاقے کے ثبات کو برقرار رکھنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے ۔ ہمیں امید ہے کہ عقلانیت کی حکمرانی ہو گی ۔      

http://www.nytimes.com/2016/01/11/opinion/mohammad-javad-zarif-saudi-arabias-reckless-extremism.html

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲